مولانا محمد الیاس چنیوٹی

مختصر حالات زندگی
نام : محمد الیاس ولد منظور احمد
پتہ : ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد ۔فیصل آباد روڈ۔ چنیوٹ
تاریخ پیدائش: 31دسمبر1961
} تعلیم و دیگر کوائف:
٭ 1971میں قرآن مجید حفظ مکمل کیا ۔اس کے بعد ابتدائی دینی تعلیم جامعہ عربیہ چنیوٹ میں حاصل کی ۔
٭ 1974میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیااور 9سال قیام کرکے 1983میں
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت ’’شہادۃ العالمیہ (دورہ حدیث شریف) فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔
٭ 1984میں فاضل عربی کا امتحان بورڈ آف انٹر میڈی ایٹ سرگودہا سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔پورے
سرگودہا بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ۔
٭ 1985میں لغت عربی کی تعلیم کیلئے کنگ سعود یونیورسٹی الریاض سعودیہ عرب میں سکالر شپ ملی ۔
٭ 1986میں ’’الدبلوم العام فی اللغۃ العربیۃ تین سالہ کورس کیلئے جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں سکالرشپ ملی۔ آخری
امتحان میں ’’ شہادۃ التفوق ‘‘ اور ’’ الدرع الذہبی ‘‘ عنایت کی گئی ۔
٭ 1987میں باقاعد طور پر جامعہ عربیہ چنیوٹ میں تدریسی اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی نظامت کی ذمہ
داریاں سونپی گئیں ۔
٭ 1974۔1977 اور 1984کی تحاریک ختم نبوت میں حصہ لیا۔
٭ 1976سے والد صاحب (مرحوم) حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی (رحمۃ اﷲ علیہ )کے غیر ملکی اسفار کی وجہ سے
عدم موجودگی میں جامع مسجد صدیق اکبر محلہ گڑھا چنیوٹ میں خطبہ جمعہ دینے کی ذمہ داری بھی لگ گئی ۔
٭ 2002میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں سیاسیات کے آپشنل مضمون کے ساتھ عصری تعلیم کے مطابق
B.Aکا امتحان پاس کیا۔
٭ 27جون 2004کو حضرت والد صاحب کی وفات حسرت آیات ہوئی تو جامعہ مسجد صدیق اکبر محلہ گڑھا کی خطابت اور عیدین کے خطبات کی ذمہ داری مستقل طور پر لگ گئی ۔اس کے ساتھ ساتھ 2004کے بعد ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں حضرت والد صاحب کا جاری کردہ15روزہ خصوصی کورس ’’تحفظ عقیدہ ختم نبوت‘‘ پڑہانے کا فرض بھی اداکررہا ہوں ۔ اس کے علاوہ تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیہ مسئلہ کے عنوان پر مختصر دورانیہ کے کورس پاکستان بھر ،بشمول آزاد کشمیر کرائے۔رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی کانفرنسز میں خصوصی دعوت نامہ پر شرکت کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش ، انڈونیشیا ، ساؤتھ افریقہ، موزمبیق، ملائیشیا، عرب امارات، ہانگ کانگ، جاپان وغیرہ ممالک کے تبلیغی دورے کئے۔اسی سال میں حضرت والد صاحب کے وفات کے بعد متفقہ طور پر انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کی امارت کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ۔
٭ تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں مشہور ملکی شخصیات چودھری محمد رفیق تارڑ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان، ممنون حسین موجودہ صدر پاکستان، میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان ، شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم پاکستان ، سردار عبدالقیوم صدر آزاد جموں کشمیر، سردار ابراہیم صدر آزاد جموں کشمیر، رئیس شؤون الحرمین الشریفین شیخ محمد بن عبداﷲ السبیل ، شیخ صالح حصین ، شیخ صالح حمید ، شیخ عبدالرحمن السدیس امام حرم مکی ، شیخ عبدالعزیز بن باز مفتی اعظم سعودی عرب، ڈاکٹر عبداﷲ عمر نصیف سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی ،ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کے علاوہ دیگر مشائخ اور زعماء سے ملاقاتیں کیں ۔ الحمدﷲ 8مرتبہ حج اور 1986سے آج تک ہر سال بلاناغہ عمرے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔
٭ 1992میں رابطہ عالم اسلامی نے ختم نبوت پر خدمات کے اعتراف میں اپنی مہمان نوازی میں حج کروایا۔
٭ مشائخ کے سلسلہ تصوف سے نسبت قائم کرنے کی غرض سے 1978میں حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوری رحمہ اﷲ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کی وفات کے بعد حضرت شیخ عبدالحفیظ مکی رحمہ اﷲ کو شیخ ثانی تسلیم کرتے ہوئے ان کی بیعت میں داخل ہوا۔حضرت مکی نے خصوصی توجہ فرماتے ہوئے 2006میں جوہانسبرگ میں اعتکاف کی حالت میں بندہ کو خلافت سے نوازااور سلسلہ میں بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت مولا نا فضل الرحمن درخواستی دامت برکاتہ نے اپنے سلسلہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا۔ الحمد ﷲ۔
} تصانیف:
مسئلہ ختم نبوت کو اجاگر کرنے کیلئے کتاب ’’فتویٰ حیات عیسیٰ علیہ السلام ‘‘ کو مرتب کیا۔ اس کے علاوہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقدمہ عیسائی عدالت میں ‘‘ اور ختم نبوت کے موضوع پر نئے انداز سے چالیس احادیث جمع کرکے ’’اربعین ختم نبوت ‘ ‘ کے نام سے تصنیف کیں ۔نیز دعاؤں کی ایک عربی کتاب ’’ ضیوف الرحمن ‘‘ کا ترجمہ بھی کیا ہے۔
٭ 2008 اور 2013کے عام انتخابات میں اہالیان چنیوٹ نے ختم نبوت کی خدمت کو تسلیم کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب کامیاب کیا۔جس سے ایوان اقتدار میںتحفظ عقیدہ ختم نبوت کی بات کرنے کا موقع اﷲ نے فراہم کیا۔ اس وقت بندہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں مسلم اوقاف و مذہبی امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کا ممبر بھی ہے۔
الأحوال الشخصیۃ
الاسم : محمد الیاس بن منظور احمد جنیوتی
مکان الولادۃ: مدینۃ جنیوت اقلیم بنجاب،باکستان
تاریخ المیلاد: ۳۱؍۱۲؍۱۹۶۱
٭ ۱۹۷۱م ۔تم حفظ القرآن الکریم،عند الشیخ المقری محمد صدیق ؒ
٭ ۱۹۷۴م۔ التحقت بجامعۃ العلوم الاسلامیۃ،بنوری تاؤن کراتشی، باکستان لمدۃ ۹
سنوات و حصلت علی الشھادۃ العالمیۃ فی العلوم العربیۃ والاسلامیۃ فی سنۃ
۱۹۸۳م۔
٭ ۱۹۸۴م۔ حصلت علی الشھادۃ فاضل عربی من مرکز الامتحانات سرجودھا ،
باکستان وحصلت علی المرتبۃ الثانیۃ بتقدیر ممتاز۔
٭ ۱۹۸۵م۔ التحقت بجامعۃ الملک سعود الریاض المملکۃ العربیۃ السعودیۃ لدراسۃ
اللغۃ العربیۃ لمدۃ سنۃ ، و فی سنۃ ۱۹۸۶م التحقت بجامعۃ أم القریٰ بمکۃ المکرمۃ
للحصول علی الدبلوم العام فی اللغۃ العربیۃ وحصلت علی الدرع الذھبی، وشھادۃ
التوفق۔
٭ ۱۹۸۷م۔ عُیّنْتُ استاذا بالجامعۃ العربیۃ، بمدینۃ جنیوت کما عُیّنْتُ مدیراً بالادارۃ
المرکزیۃ للدعوۃ والارشاد جنیوت۔
٭ ۲۰۰۲م۔ حصلت علی شہادۃ بکالیوریوس (B.A) فی السیاسۃ من جامعۃ
بھاؤالدین زکریا،ملتان۔
٭ ۲۰۰۸م۔ حصلت علی شھادۃ الماجستیر فی العلوم الاسلامیۃ من جامعۃ لاھور۔
٭ ۱۹۷۴م ، ۱۹۸۴م ، ۱۹۷۷م شارکت فی تحاریک الحفاظ علی عقیدۃ ختم النبوۃ۔
٭ ۲۰۰۴م۔ عُیّنْتُ خطیباً بجامع صدیق أکبر بعدوفاۃ والدی الشیخ منظور أحمد
جنیوتی رحمہ اﷲ تعالیٰ ۔
٭ ۲۰۰۴م۔کما عُیّنْتُ مدیراً عاماً للادارۃ المرکزیۃ للدعوۃ والارشاد۔جنیوت
باکستان بعد وفاۃ الوالد۔ و عُیّنْتُ أمیراً لحرکۃ ختم النبوۃ العالمیۃ قسم باکستان،
صلیت بالناس التراویح مدۃ عشرین سنۃ۔
} ا لزیارات واللقاء ات :
تمت الزیارات لشؤون عقیدۃ ختم النبوۃ مع رئیس جمہوریۃ باکستان الاسلامیۃ، السید محمد رفیق تارر۔ والسید ممنون حسین ،و رئیس وزارء جمہوریۃ باکستان نواز شریف (سابقاً) وشاھد خاقان العباسی،ورئیس شؤون الحرمین الشریفین الشیخ محمد بن عبداﷲ السبیّل،والشیخ صالح الحصین والشیخ صالح حمید وعیّن الشیخ عبدالرحمن السدیس رئیس شؤون الحرمین الشریفین کرسیاً لنا لبیان مسئلۃ ختم النبوۃ فی الحرم المکی والمسجد النبوی الشریف ،کما زرت المفتی العام للملکۃ العربیۃ السعودیۃ فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اﷲ ومعالی الشیخ عبداﷲ عمر النصیف الامین العام لرابطۃ العالم الاسلامی والشیخ محمد بن عبدہ یمانی ومعالی الدکتور عبداﷲ عبدالمحسن الترکی و سردار عبدالقیوم و عتیق احمد رئیس وزارء کشمیر الحرۃ۔
} اللقاء ات مع الشخصیات البارزۃ :
الشیخ محمد یوسف البنوری والقاری محمد طیب مدیردارالعلوم دیوبند والشیخ اسعد المدنی والشیخ مفتی محمود والشیخ غلام غوث ھزاروی والشیخ عبدالحق الحقانی والشیخ عبداﷲ الشھید خطیب المسجد المرکزی باسلام آباد والشیخ غلام اﷲ خان والشیخ ابوالحسن الندوی، والشیخ القاری خلیل الحُصری والشیخ عبدالباسط عبدالصمد والمفتی العام بمالیزیا والشیخ المفتی محمد شفیع والشیخ ناصر العبودی والشیخ سرفراز خان صفدر والامام بجامع الشیخ زاید بن سلطان آل نھیان ابوظہبی والامام بالمسجد الاقصیٰ والشیخ المفتی تقی والمفتی رفیع العثمانی والاولاد الشیخ احمد الفاروقی سرھندی۔
٭ حججت ۸ مرات ومن سنۃ ۱۹۸۶م الی سنۃ ۲۰۱۸ اعتمرت کل سنۃ من غیر توقف
والحمدﷲ و حججت فی سنۃ ۱۹۹۲م علی دعوۃ الرابطۃ العالم الاسلامی و شارکت
فی المؤتمر الدولی بمدینۃ کیب تاؤن و جوھانس برج ومکۃ المکرمۃ للمکافحۃ علی الارھاب۔
٭ انتخبت عضواً لبرلمان الاقلیمی بنجاب فی سنۃ ۲۰۰۸ وفی سنۃ ۲۰۱۳ مرتین
وعُیّنْتُ عضواً للمجلس القائم بالبرلمان للشؤون الدینیۃ والأقاف۔
} الجولات الدعویۃ :
تجولت للحفاظ علی عقیدۃ ختم النبوۃ لکل من دولۃ بنجلادیش والہند ، اندونیسیا، افریقۃ الجنوبیۃ وموزمبیق ومالیسزیا والامارات العربیۃ المتحدۃ وھو نج کونج ویابان والمملکۃ العربیۃ السعودیۃ عدۃ مرات
} التصانیف :
۱) رتبت ’’الفتویٰ علی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ‘
۲) ’’ قضیۃ عیسیٰ علیہ السلام فی المحکمۃ النصرانیۃ‘‘
۳) ’’اربعین ختم النبوۃ‘‘ بعنوان جدید
۴) ترجمت الکتاب ’’ضیوف الرحمٰن‘‘ الی اللغۃ الاردویۃ۔
(بقلم محمد سلیمان جنیوتی)